انڈوں کی فی درجن قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 دسمبر2023ء) انڈوں کی فی درجن قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ، ملک کے بیشتر شہروں میں ایک درجن انڈوں کی قیمت 400 روپے سے تجاوز کر گئی۔ تفصیلات کے مطابق مہنگائی کا بے قابو جن سال کے اختتام پر بھی عوام کا برا حال کرنے میں مصروف ہے۔ سال کے اختتام پر مہنگائی کا ایک اور نیا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں انڈے مہنگے ہونے کے تمام ہی ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، رواں سال کے اختتام پر ملک کے مختلف شہروں میں فی درجن انڈوں کی قیمت 400 روپے سے اوپر چلی گئی، ملکی تاریخی میں پہلی مرتبہ انڈوں کی قیمت 400 روپے کی سطح سے اوپر گئی ہے، یوں انڈوں کی فی درجن قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ادارہ شماریات کی دستاویز کے مطابق فی درجن انڈوں کی اوسط قیمت 420 روپے ہو گئی ہے۔ دستاویز کے مطابق اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد میں انڈے فی درجن 420 روپے میں فروخت ہونے لگے۔ سیالکوٹ میں انڈے فی درجن 410 روپے میں دستیاب ہیں۔ راولپنڈی، گوجرانوالا، لاڑکانہ اور ملتان میں انڈے 400 روپے فی درجن فروخت ہونے لگے، جبکہ کوئٹہ اور بنوں میں بھی انڈے فی درجن 400 روپے میں فروخت کیے جارہے ہیں۔ خضدار اور سکھر میں فی درجن انڈے 390 روپے میں فروخت ہونے لگے، کراچی، بہاولپور، حیدر آباد میں انڈے فی درجن 380 روپے میں دستیاب ہیں۔ دوسری جانب ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح بھی 42 فیصد سے نیچے نہ آ سکی۔ گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 0.51فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح ابھی بھی 42.60 فیصد ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 18اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 9اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 24اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انڈے، پیاز، لہسن اور دالوں حالیہ ایک ہفتے کے دوران انڈوں کی قیمتوں میں 10.42فیصد، آگ جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں 1.23 فیصد اضافہ ہوا، پیاز کی قیمتوں میں 1.19 فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں 0.58 فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں 0.79 فیصد، دال مسور کی قیمتوں میں 0.38 فیصد جبکہ ایل پی جی کی قیمتوں میں0.26 فیصد اضافہ ہوا۔

Comments