اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عمران خان سے سیاسی مشاورت کی اجازت دیدی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 دسمبر2023ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو بانی تحریک انصاف عمران خان سے سیاسی مشاورت کی اجازت دے دی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بانی پی ٹی آئی سے پارٹی ٹکٹوں کی مشاورت کی اجازت دینے کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈشنل اٹارنی جنرل اور اڈیالہ جیل سپریٹنڈنٹ نے عدالت میں پیش ہوکر درخواست قابل سماعت ہونے کی مخالفت کی جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا سپریم کورٹ سے آنے والا اضافی نوٹ آپ کے لیے کافی نہیں تھا؟ مجھ سے بھی اپنے خلاف نوٹ لکھوانا چاہتے ہیں؟ مشاورت میں مخالفت سے غیر جانبداری پر سوال اٹھتا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار بیرسٹر گوہر کو بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کی اجازت دیتے ہوئے درخواست نمٹادی اور حکم دیا کہ سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کی نگرانی میں عمران خان ملاقات کرائی جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ انتخابات کے لیے مشاورت کی اجازت بنیادی حق ہے، انتخابات میں نگران حکومت کوغیر جانبدار ہونا چاہیے۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس نگراں حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں، ایڈووکیٹ اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو غیر جانبدار ہونا چایئے، نگراں حکومت کے زیر نگرانی خوفناک نظام چل رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت کے نظام میں انتخابی مشاورت کی اجازت بھی نہیں، حکومت کیا انتخابات کو ڈی ریل کرنا چاہتی ہے۔
Comments
Post a Comment